ارتک بےکےبارے میں معلومات

اسلام علیکم دوستو میں آپکو ارتک بے کے بارے کچھ معلومات بتاوں گا چلیں شروع کرتے ہیں۔ارتک بے کا پورا نام ظہیرالدین دولہ ارتک بے تھا۔ گیارویں صدی میں سلجوک سلطنت کا اک بہترین کمانڈر تھا۔ ان کے والد کا نام اکسک تھا۔

آپ اسلام کے اک عظیم جنگجو رہ چکے ہیں۔آپکی پیدائش کہاں اور کس سن میں ہوئی تاریخ میں اسکا ذکر نہیں ملتا ۔ارتک بے نے بہت سی جنگوں میں حصہ لیا اور وہ سب کی سب اسلام کے نام پر لڑی گئی تھی۔لیکن اک میں جو بڑی جنگیں تھی وہ سن 1071میں بازنطینی عسائیوں کے خلاف اک تاریخی معارکہ ہو ا تھا۔

بیٹل آف  مازیکرٹ

جسکو تاریخ  میں بیٹل آف  مازیکرٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔اس میں ارتک بے اک سلجوکی سلطنت کے اک کمانڈر تھے۔جس میں عسائیوں کی تعداد تین لاکھ تک بتائی جاتی ہے۔لیکن نئے مورخین کے مطابق اسکی تعداد اک لاکھ بتائی جاتی ہے۔پھر بھی سلجوکی فوج کے دوگناتھے عسائیوں کو بدترین شکست ہوئی1074 عیسوی میں ارتک بے نے سلجوک سلطان کے ساتھ مل کر اناطولیہ فتع کیا۔

اسی سال یسلیمارکے علاقہ کو اپنے قبضہ میں لیا۔اور اسی طرح آپ نے 1077 کو اس بگاوت کو ختم کیاجو سلطنت سلجوکی کے خلاف اٹھتی تھی۔سن 1086 میں ان کا مہم (دیارباکر )کو اپنے قبضہ میں لینا تھااسکا پرانا نام (امید)تھا۔اس وقت سلجوکی بادشاہ ملک شاہ اول تھے۔اس مہم میں ارتک بے کا جنگ سلجوک میں کیونکہ آرمی اف کمانڈر چیف فخرالدین دولہ کے ساتھ ہونا پڑاکیونکہ اس مروانوں سے امن کا معائدہ کیا تھا اور جنرل ارتک بے کا یہ ماننا تھاکہ انکو  موقعہ نہیں دینا چاہیے۔انہوں نے مر وریوں کو امداد پہچانے والے قابلہ پر حملہ کر کے شکست دے دیا۔

سلطان ملک شاہ اس پر ناراض ہوا اسکی نظر میں ارتک بے مشکوک ہواارتک بے میدان جنگ سے سیدھا دمش کے طرف ہجرت کر گیااور وہاں سلطان ملک شاہ کے بھائی توتیش کے پاس گیا جو اس سے ناراض تھاجہاں اس نے اپنی خودمختاری کا علان کر کے دمش کا گورنر بن گیا۔

اسلام کی خدمت

سال 1086 عسیوی میں  ارتک بے کے بہادرانہ کارنامہ سے سلجوک افران کےسلطان سلیمان ابن قطلیش اور ابو سعید تاجو دولہ توتش کے درمیان لڑئی میں ارتک بے کے بہادرانہ کردار کی وجہ سے سلجوک افرون کے سلطان سلیمان کو شکست ہوئی۔ تیتوش نے جیروسیلم کا علاقہ القدس آپکے حوالے کر کے وہاں کا آپکو گورنر بنا دیا۔ آپکے دو بیٹے تھےالغازی ابن ارتک اور سقمان ابن ارتک جو اپنے والد کی طرح نہایت بہادر اور جنگجو تھے۔

سقمان جنہوں اپنی بہادری سے اسلام کی بہت خدمت کی اور اپنے والد کا نام روشن رکھا۔ اور حقیقی معنوں میں سچے مسلمان تھے۔ مورخین نے ان کے باقی بچوں کا ذکرکیا ہے ان میں تین بچوں کا نام الیاروک  بہرام اور عبدالجبار تھا باقی تین اور بچوں کا لکھا گیا ہے ان کے نامو ں کا ذکر تاریخ میں نہیں ہے آپکی وفات ہونے تک آپ القدس کے گورنر رہے۔ اپکی 1091 عیوی میں وفات ہوئی ۔آپکی وفات کے گیارہ سال بعد آپکے بیٹوں نے ارتک کے علاقے کو ارتک بے کانام دیا۔

ارطغرل ڈرامہ میں جو ارتک بے دیکھایا گیا ہے وہ قائی قبیلہ ارطغرل غازی کاانتہائی وفادار دیکھایاگیا ہےجو ہر مشکل گڑی میں ساتھ رہتا تھا۔ ہتکہ میں نے  تاریخ میں شان بین کی تو مجھے اس ارتک بے کی تاریخ ملی۔ دریل  ارطغرل والے کی تاریخ نہیں ملی۔ یاتو ان کی تاریخ کسی نے لکھی نہیں ہے یا ڈرامہ ارطغرل غازی میں انکو شامل کر کے انکو خیراج تحسین پیش کیا ہے ۔ یا شائد ارطغرل غازی کا اسی طرح کا کوئی ساتھی گزرا ہو  برہال دونو ں کے کرداروں کو دیکھاجائے تو دونوں نے اسلام کی خدمت کی ہے۔ رہتی دنیا تک ان کی خدمت کو سراہا جائے گا ۔اور آخر میں اللہ انکے درجات بلند فرمائے ۔ امین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *