سنگرتیکن کے بارے میں معلومات

معزز دوستو تاریخ کے مطابق با ت کریں تو ارطغرل کا بھائی سنگرتیکن کی پیدائش  1283 عسوی میں ہوئی۔وہ اپنے گھر والوں سے سال ہا سال اتنے دور تھے کہ انکے گھر والوں کو یہ بھی نہیں پتا تھا کہ وہ زندہ اپنے گھر والوں کے پاس آہ سکیں گے۔جبکہ وہ دوسری طرف سلجوک سلطنت کیلئے منگولو ں کے خلاف جاسوسی کاکام سرانجام دیتے تھے۔اسی وجہ سے انھوں نے اپنے تجربےکے باعث سلجوک سلطنت کو اہم معلومات فراہم کرتے تھے۔اپنے والد سلیمان شاہ کی وفات کےبعدوہ قبیلے میں واپس آئے۔ قبیلے میں آنے کے بعد انھوں نے اپنے بھائی گندودو کو ساتھ لیا اور خرسان چلے گےاور اپنا مشن جاری رکھا۔اور ان کی زندگی کا زیادہ تر حصہ بھی ایسی ہی سرگرمیوں میں گزر گیا۔انکو سلیمان شاہ کا گمشدہ بیٹا بھی کہا جاتاہے۔انکی زندگی کا ذیادہ تر حصہ جاسوسی کرتے ہوئے ہی گزرا تھا۔تاریخ دانوں کا ماننا ہے کہ انکی جاسوسی کا علم منگولوں کو بھی ہو گیا تھا۔اور منگولوں نے انکو قید کرنے کے بعد شہید کر دیا تھااور کچھ تاریخ دانوں کا ماننا ہے کہ وہ بعد میں بازنطینی سلطنت میں چلے گےتھے۔اور انکی معلومات لے کر مسلمانوں تک پہچاتے تھے۔اسی کردار کو کرلوس عثمان میں بھی دکھایا گیا ہے۔کہ وہ بازنطینیوں سے معلومات لے کر عثمان کو پہچاتے ہیں۔اور تھوڑی سی ملاقات کے بعد واپس اپنے مش پر چلےجاتے ہیں۔ذیادہ تر تاریخ دانوں کے مطابق وہ 1233 عسوی کے بعد وہ غائب ہو گے تھے۔یعنی پھر وہ کبھی منظرعام پر نہیں آئے تھےکچھ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ خراساں کے مقام پر وہ گوریلہ جنگ لڑتے ہوئے وہ شہید ہو گے تھے۔لیکن ذیادہ تاریخ دانوں کا اس حوالے سے اتفاق ہے کہ وہ 1233 عسوی کے بعد وہ کبھی منظر عام پرنہیں آئے۔ناظرین گرامی ہم اس بات سے تو واقف ہیں کہ جاسوس کی زندگی عام لوگوں سے بہت مختلف ہوتی ہے اس لیے وہ ذیادہ تر منظرعام سے غائب ہی رہتے ہیں۔کرلوس عثمان میں بھی دیکھایا گیا ہے کہ وہ اپنے مش کیلئے قسطنطونیا روانہ ہوگے تھےاور ہم یہ بات جانتے ہیں کہ جاسوس اپنے مش کو پورا کرنے کے لئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرتے یہی وجہ ہے کہ یہ خراساں آنے کی بجائے جاسوسی ہی کرتے رہے تھے۔اور مسلمانوں کو معلومات فرہم کرتے رہے اگر یہ سامنے آتے تو انکا سبکو علم ہو جاتا اور انکا مشن کامیاب نہ ہوتااسی لیے ان کے بارے میں ذیادہ معلومات فراہم نہیں کی گئی۔اور آخر میں اللہ اس عظیم مجاہد کے درجات بلند فرمائے  اور جنت میں عالہ مقام عطافرمائے۔

امین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *