سعادتین کوپک کے بارے میں معلومات

اسلام وعلیکم دوستو: میری آج کی تحریر سعادتین کو پک  بن محمد کے بارے  میں ہےسعادتین بن محمد تیرہویں صدی میں دو سلجوک سلطان کے نیچے عدالت کا متظم رہ چکا تھا۔اسکے بارے میں تاریخ  میں کہیں بھی نہیں ہے کہ اس نے کیسے عمر گزاری۔یہ معلوم نہیں ہے کہ سعادتین کوپک کیسے سلجوکی سلطنت کی خدمت کیلئے بھرتی ہو گیا تھالیکن یہ معلوم ہے کہ سلطان علاؤدین کیکوبت  کے دور میں یہ اک وزیر ادلیا ء سلطان کے دربار کا جو حساب کتاب ہوتا تھا انکا منتظم اور ساتھ میں اک زبردست ماہر تعمیر بھی تھا۔اس نے اپنے دور میں دو کاروائے  سرائے بھی بنوائے تھے پرانے زمانے میں کاراؤں سرائے مسافروں کیلئے استعمال ہوتے تھے مطلب وہاں رات گزارنا کھانا پینا اور گھوڑا وغیرہ رکھنے کی جگہ ہوتی تھی۔سب سے امشہور عمارت جو اس نے بنائے تھی وہ کوباداد محل تھا کوپک نے سلطان کے درمیان اپنا اعتماد اتنا پختہ بنایا تھاکہ جب بھی سلطان شکار کیلئے نکلتے تھے تو جو دستہ سلطان کی حفاظت کیلئے نکلتا تھا یہ اس دستہ کو کمانڈر ہوتا تھابعد میں کوپک کو عمارتیں بنانے کا ناظم بھی مقرر کیا گیا۔کیونکہ یہ اک زبردست عمارتیں بنانے کا ماہر ہوا کرتا تھاسلطان علاؤدین کیکوبت کی موت میں بھی سعادتین کوپک کاہاتھ تھاجیسا کہ ارطغرل ڈرامہ میں دیکھایا گیا ہے۔سلطان کی پہلی بیوہ ماہ پری ہاتون  اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر سلطان کو زہر دیاتھااور گیاسودین کے دو سوتیلے بھائی اور انکی ماں جوکہ ایوبی سلطنت کی شہزادی تھی انکو گلہ گھونٹ کر ما ردیا گیااور گیاسودین سلطان بن گے۔اور یہ اک کہ خسروسانی کے ساتھ مشیر سانی بھرتی ہو گیا اوراسطرح اسکا اثرو راسوکھ ریاست میں کافی ہو گیا تھااور ادر  برصغیر میں خوارزمی فوج سلطان جلالودین مینگوبرسدی کی قیادت میں جو سلطان خوازم کا بیٹا تھا کی قیادت میں اور منگول فوج چنگیز خان کی قیادت میں اٹک میں گھوڑاتن کے مقام پر آمنے سامنے ہوئی تھی جس میں سلطان جلالودین کی فوج کو شکست ہوئی اور چنگیزخان نے خوازمی سلطنت کا کھاتمہ کر دیااور بقایا فوج سلطنت روم کی طرف ہجرت کر گئی وہاں پر سلطان علاؤدین نے انکو کئی قلعہ میں نوکریاں دے رکھی تھی جو کوپک نے گیاسودین  کے دور میں اس شک  کے بنا پر سلطان کی نظروں میں مشکوک بنایا  کہ یہ لوگ دربار میں مقبولیت نہ اختیارکر جائیں کو پک نے ان خوازمی فوجیوں کے ساتھ ذیادتیاں کرنا شروع کر دی ۔انکا ان لیڈر جو غالبن کیرخان کے نا م سے تھا اسکو قیدی بنا لیا ۔بعد میں کچھ بچے کھچے کو لوگ ایوبی سلطنت میں دیار مودر کی طرف ہجرت کر گئے۔کیونکہ سلطان علاؤدین اول  ارطغرل کے پہ درپہ کامیابیوں بہادرانہ جنگی سلاحیتوں سے متاثر ہو کر انہیں شاہے خلت عطا کی اسکی نفرت کی اک وجہ یہ بھی تھی اسکو ڈر تھا کہ کہیں ارطغرل غازی کو اس کی جگہ متبادل نہ کیا جائے ۔کیونکہ اک تو وہ بہادر تھا اور اسکے ساتھ قبیلہ بھی تھا اور سب سے بہترین سپاہی بھی تھےکو پک اس کیلئے نئی نئی مشکلات پیدا کرتا رہتا تھاآخر میں اسنے  اپنے آپکو سلطان علاؤدین کا بیٹا کہنا شروع کر دیا ۔اور یہ ا علان کر دیا کہ وہ اک شہزادہ ہے اور میں سلطان علاؤدین کا بیٹاہوں  کوپک نے اپنے سب سے قریبی کمانڈر کو سلطان گیاسودین کو مارنے کیلئے بھیجا اور اسکا پتا سلطان کو پہلے ہی تھا کہ کوپک مجھے مار کر خود سلطان بننا چاہتا ہے تو وہ اپنا  مہل چھوڑ کر ارطغرل کے پاس آ گیا  اپنی جان بچانے کی خاطر اور وہاں آ کر ارطغرل کو یہ حکم دیا  کہ وہ کوپک کو مار دے اس سے ریاست خطرے میں ہے تو  اسنے سلطان کے حکم پر کو پک کو مار کر ریاست کو بچا لیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *